پشاور: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیان کو افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات پارٹی کے داخلی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اپنے بیان میں علی امین گنڈاپور نے غیر جمہوری فیصلہ سازی اور مبینہ گروپ کی سازش سے متعلق الزامات پر وضاحت کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات لگانے والوں کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ کن افراد کی بات کررہے ہیں اور کن اراکین اسمبلی پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر یا آئندہ وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر کسی کے پاس یہ شواہد موجود ہیں کہ بعض افراد خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی راہ ہموار کررہے ہیں تو انہیں سامنے لایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق الزامات کو عمومی انداز میں دہرانے کے بجائے متعلقہ شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلافات یا فیصلہ سازی سے متعلق دعوؤں کی بنیاد حقائق ہونے چاہییں۔
سابق وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر علی اصغر خان کو پی ٹی آئی کا قائم مقام صوبائی صدر مقرر کیا گیا ہے تو اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن سامنے لایا جائے۔
ان کے مطابق متعلقہ دستاویز پیش کرنے سے تقرری کی حیثیت واضح ہوسکے گی اور پارٹی کے تنظیمی معاملات کے بارے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کم کرنے میں مدد ملے گی۔
علی امین گنڈاپور نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی مشاورت کے ذریعے موجودہ بحران کا آئینی اور سیاسی حل تلاش کرنا چاہتی ہے تو منتخب نمائندوں کو غدار، سازشی یا غیر جمہوری قرار دینے کا اختیار چند افراد کو کس نے دیا ہے۔