پاکستان کی معاشی اصلاحات

وزیر خزانہ کی سربراہ یو این ای ایس سی اے پی سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو بنکاک میں اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (ای ایس سی اے پی) کی ایگزیکٹو سیکرٹری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، اقتصادی ترجیحات اور باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات عالمی بینک گروپ اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی۔

ملاقات میں پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقوں نے ان شعبوں پر گفتگو کی جہاں باہمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے ترقیاتی اہداف کے حصول اور معیشت کے طویل مدتی استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے لیے ساختی اصلاحات اور برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی ناگزیر ہے۔ انہوں نے ایسی پالیسیوں کی اہمیت اجاگر کی جو برآمدات کو فروغ دیں اور ملک کو طویل مدتی معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کریں۔

موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی پاکستان کے بڑے چیلنجز قرار دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور پیشگی انتباہی نظام کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے قابل عمل منصوبوں کی تیاری میں تعاون پر بھی بات ہوئی۔

ملاقات میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے امور بھی زیر بحث آئے۔ دونوں فریقوں نے پائیدار مالیات اور توانائی کی منتقلی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ ان شعبوں میں پیش رفت معاشی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی اور روزگار سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے ممکنہ تکنیکی معاونت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس طرح کا تعاون ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے اور معاشی پالیسیوں کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، ملاقات میں کسی نئے معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ ممکنہ تعاون کے شعبوں پر گفتگو ہوئی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پالیسی تجزیے کو عملی اقدامات اور قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق معاشی اصلاحات کی کامیابی کے لیے صرف پالیسیاں بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد بھی اہم ہے۔ ملاقات میں معاشی استحکام، موسمیاتی تحفظ، ڈیجیٹل مہارتوں اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان اور ای ایس سی اے پی کے درمیان تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین