ایل نینو

اقوام متحدہ کا ایل نینو فروری 2027 تک شدید رہنے کا انتباہ

اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو فروری 2027 تک شدید رہ سکتا ہے۔ اس موسمی رجحان سے عالمی درجہ حرارت مزید بڑھنے اور کئی خطوں میں موسمی خطرات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینو 2026 کے اختتام تک اپنی بلند ترین شدت پر پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس کے اثرات 2027 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی عالمی درجہ حرارت بڑھا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق فوسل فیول کے استعمال اور دیگر انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز زمین کے نظام میں بڑی مقدار میں حرارت روک رہی ہیں۔ ایل نینو بحرالکاہل میں ذخیرہ حرارت فضا میں منتقل کرکے مزید گرمی کا باعث بن سکتا ہے۔

ایل نینو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کی سطح کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ اس تبدیلی سے عالمی فضائی نظام اور بارشوں کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب جبکہ دیگر خطوں میں خشک سالی ہوسکتی ہے۔

جنوبی ایشیا بھی اس موسمی رجحان سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ایل نینو کے دوران مون سون بارشوں میں کمی کا امکان بڑھ جاتا ہے، جس سے بعض علاقوں میں خشک حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ افریقہ اور امریکا کے مختلف حصوں میں بھی بارشوں اور طوفانوں کے انداز بدل سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایم او نے ستمبر سے نومبر کے دوران دنیا کے تقریباً ہر خطے میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیشگوئی کی ہے۔ ادارے کے مطابق ایل نینو کی شدت بڑھنے سے شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور دیگر موسمی خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

2023 میں بھی ایل نینو کی ایک بڑی لہر دیکھی گئی تھی، جس کے بعد 2024 دنیا کا گرم ترین سال ریکارڈ ہوا۔ ڈبلیو ایم او کے مطابق موجودہ ایل نینو موسمیاتی تبدیلی سے پہلے ہی متاثرہ دنیا کے لیے مزید خطرات پیدا کرسکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین