رائٹرز کے ایک تفصیلی جائزے کے مطابق چین سے وابستہ فوجی محققین نے امریکی مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کے نتائج استعمال کرتے ہوئے مقامی دفاعی اے آئی نظام تیار کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی فوجی اے آئی منصوبوں میں "ماڈل ڈسٹلیشن” نامی طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کم وسائل کے ساتھ خصوصی نوعیت کے اے آئی ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (PLA) اور دیگر دفاعی اداروں سے وابستہ محققین نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ماڈلز کے جوابات کو تربیتی مواد کے طور پر استعمال کیا۔ ان کا مقصد امریکی ماڈلز کی مکمل نقل تیار کرنا نہیں بلکہ ان کے منتخب نتائج سے مقامی ماڈلز کو بہتر بنانا تھا۔
رائٹرز کے جائزے میں شامل تحقیقی مقالوں کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن کے ذریعے بڑے اے آئی ماڈلز کی مخصوص صلاحیتیں چھوٹے اور مقامی نظاموں میں منتقل کی جا سکتی ہیں۔ اس سے ایسے ماڈلز تیار کرنا ممکن ہوتا ہے جو محدود کمپیوٹنگ وسائل کے باوجود فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکیں۔ رپورٹ کے مطابق چینی فوجی اے آئی منصوبوں میں امریکی ماڈلز کو تکنیکی رہنمائی کا اہم ذریعہ تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں ایک تحقیقی مقالے کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے مطابق پی ایل اے یونٹ 96941 کے محققین نے اوپن اے آئی کے GPT-3.5 ماڈل سے فوجی سافٹ ویئر کوڈ کا خلاصہ تیار کیا، جس کی بنیاد پر ایک مقامی ماڈل تیار کیا گیا جو مکمل طور پر چینی فوجی نیٹ ورک کے اندر کام کر سکتا ہے۔
دیگر مطالعات میں نگرانی، سوشل میڈیا مانیٹرنگ، ڈرونز، تصویری تجزیے اور بحری فوجی مشقوں کے دوران اہداف کی شناخت جیسے شعبوں میں بھی ماڈل ڈسٹلیشن کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض محققین نے ڈرونز کے لیے ہلکے وزن کے اے آئی ماڈلز تیار کرنے پر بھی کام کیا۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ مزید تیز ہو رہی ہے۔ امریکی حکام نے بعض چینی اداروں پر امریکی اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ چین اور چند مقامی اے آئی کمپنیوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ٹیکنالوجی کو آزادانہ تحقیق کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن منتخب صلاحیتوں کو منتقل تو کر سکتا ہے، لیکن جدید ترین اے آئی ماڈلز کی مکمل ذہانت کی نقل نہیں بنا سکتا۔ رائٹرز کے مطابق رپورٹ کی اشاعت تک وائٹ ہاؤس، پینٹاگون، چینی وزارت خارجہ، پیپلز لبریشن آرمی اور اوپن اے آئی نے اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا تھا۔ یہ رپورٹ عالمی سطح پر چینی فوجی اے آئی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔