عالمی مارکیٹ میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر حملے کے دعوے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ حوثی حملے کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل اور بحری سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمت میں 1.07 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 80.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 45 سینٹ بڑھ کر 76.22 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
حوثی گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس نے سعودی عرب کے اہم بندرگاہی شہر ینبع کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس خبر نے مارکیٹ میں دوبارہ تشویش پیدا کی اور سرمایہ کاروں نے خطے میں ممکنہ کشیدگی کے باعث تیل کی خریداری میں اضافہ کیا۔
اس سے قبل مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی۔ قطر کی جانب سے جنگ بندی مذاکرات میں پیشرفت کے بیان کے بعد منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد کم ہوئی تھی، تاہم حوثیوں کے تازہ دعوے نے صورتحال تبدیل کر دی۔
ایران نے اس دوران امن مذاکرات جاری ہونے کی اطلاعات کی تردید کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات میں پیشرفت کا دعویٰ کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال تیل کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
حوثی حملے کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھنے کی ایک وجہ آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی ہے، جہاں دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بحری راستوں سے متعلق خدشات بڑھتے ہیں تو عالمی توانائی مارکیٹ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکا میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں اضافہ ہوا، جبکہ دیگر ایندھن کے ذخائر میں کمی دیکھی گئی۔ دوسری جانب چین نے اگست میں ایندھن کی برآمدات سے متعلق بعض پابندیوں میں مزید نرمی کی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔