ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے ایک نئی اسپورٹس کار پیش کی ہے، جسے انہوں نے اڑنے والی گاڑی قرار دیا۔ ٹیسلا کی اڑنے والی گاڑی میں ایئر تھرسٹرز نصب ہیں، جن کی مدد سے اسے ہوا میں بلند کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ گاڑی جمعرات کو ٹیکساس میں اسپیس ایکس کی آزمائشی تنصیب پر منعقدہ تقریب میں پیش کی گئی۔
یہ گاڑی ٹیسلا کی روڈسٹر الیکٹرک اسپورٹس کار کا نیا ورژن ہے۔ مظاہرے کے دوران گاڑی ایک اونچے ریمپ سے آگے بڑھی اور دوبارہ اپنے پہیوں پر اتری۔ اس تقریب کو ٹیسلا کے ایکس اکاؤنٹ پر براہ راست نشر کیا گیا، جس سے ناظرین آن لائن اس کی پیشکش دیکھ سکے۔
ایلون مسک نے کہا کہ اڑنے والی گاڑیاں اب حقیقت بن رہی ہیں، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس منصوبے کی کامیابی یقینی نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گاڑی توقعات کے مطابق کام کرے گی۔ تاہم، اس مظاہرے سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ گاڑی طویل فاصلے تک خود مختار طور پر پرواز کرسکتی ہے۔
Do a kickflip! https://t.co/DJ1Bq1yu8m
— Tesla (@Tesla) October 16, 2026
مسک کے مطابق، روڈسٹر میں انتہائی زیادہ دباؤ والے ہوا کے ٹینک استعمال کیے گئے ہیں، جو گاڑی کو ہوا میں بلند کرنے کے لیے قوت فراہم کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اسے عام الیکٹرک اسپورٹس کاروں سے مختلف بنا سکتی ہے، تاہم تقریب میں اس کی پرواز کی صلاحیت سے متعلق مزید تکنیکی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
ایلون مسک نے اس منصوبے کو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے درمیان تعاون کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، اس میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی کی مہارت اور راکٹ تیار کرنے والی کمپنی کی صلاحیتوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ دونوں کمپنیاں مسک کی قیادت میں اہم ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ منصوبوں پر کام کرتی ہیں۔
مسک نے بتایا کہ گاڑی کی پیداوار 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم، ٹیسلا کی اڑنے والی گاڑی کو تکنیکی کارکردگی، حفاظت اور قانونی منظوری جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان مسائل نے اس سے پہلے بھی اڑنے والی گاڑیوں کی تیاری اور استعمال میں پیشرفت کو سست رکھا ہے۔
اڑنے والی گاڑی کا تصور ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔ ہوا بازی کے امریکی ماہر گلین کرٹس نے 1917 میں اڑنے والی گاڑی کا ابتدائی نمونہ پیش کیا تھا۔ حالیہ برسوں میں الیکٹرک موٹرز اور جدید بیٹریوں میں ترقی نے اس شعبے میں دلچسپی بڑھائی ہے۔ ٹیسلا کی نئی پیشکش سڑک اور ہوا میں سفر کو یکجا کرنے کی اسی کوشش کا حصہ ہے۔