ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارشپ راکٹ نے پہلی بار زمین کے مدار تک پہنچنے کا اہم سنگِ میل حاصل کرلیا۔ یہ کامیابی اسٹارشپ کی 14ویں آزمائشی پرواز کے دوران سامنے آئی، تاہم پرواز کے دوران ایک انجن میں خرابی پیدا ہونے کے باعث مشن کو طے شدہ مدت سے پہلے ختم کرنا پڑا۔
اسٹارشپ نے امریکی ریاست ٹیکساس میں خلیجِ میکسیکو کے قریب واقع اسپیس ایکس کے اسٹاربیس کمپلیکس سے پرواز کی۔ یہ مشن کمپنی کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس کا مقصد اسٹارشپ کی مداری پرواز کے ساتھ ساتھ نئے اسٹارلنک سیٹلائٹس کو خلا میں پہنچانا بھی تھا۔
پرواز کے دوران اسٹارشپ کے ایک انجن میں خرابی پیدا ہوئی، جس کے بعد مشن کے طے شدہ پروگرام میں تبدیلی کرنا پڑی۔ اس کے باوجود راکٹ اپنے بنیادی ہدف میں کامیاب رہا اور پہلی مرتبہ مدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔
اس مشن کے دوران اسپیس ایکس نے نئے اسٹارلنک سیٹلائٹس بھی مدار میں تعینات کیے۔ کمپنی کے مطابق اس پرواز کا ایک اہم مقصد اسٹارشپ کی مدد سے بڑے پیمانے پر سیٹلائٹ تعیناتی کی صلاحیت کا عملی تجربہ کرنا تھا۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق اسٹارشپ کی پرواز تقریباً 10 گھنٹے جاری رہنی تھی۔ تاہم انجن کے مسئلے کے بعد مشن کا دورانیہ کم کرکے تقریباً 3 گھنٹے کردیا گیا، جس کے بعد راکٹ نے اپنا مختصر کردہ مشن مکمل کیا۔
یہ پرواز اسٹارشپ پروگرام کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ اسپیس ایکس طویل عرصے سے اس راکٹ کو مکمل طور پر دوبارہ استعمال کے قابل خلائی نظام کے طور پر تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔ مستقبل میں اسٹارشپ کو بڑے سیٹلائٹس کی ترسیل، انسانی خلائی مشنز اور دیگر طویل مدتی خلائی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسٹارشپ کی یہ پرواز 2023 کے بعد پروگرام کی 14ویں آزمائشی پرواز تھی۔ اگرچہ انجن کی خرابی کے باعث مشن مقررہ منصوبے کے مطابق مکمل نہیں ہوسکا، لیکن پہلی بار مدار تک پہنچنا اور اسٹارلنک سیٹلائٹس تعینات کرنا اسپیس ایکس کے لیے اس ٹیسٹ کا نمایاں نتیجہ رہا۔