پی ٹی آئی

وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلافات، خیبر پختونخوا کو واضح پیغام

اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان سکیورٹی پالیسی کے معاملے پر اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو بتایا گیا ہے کہ ملک کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا اور خیبر پختونخوا حکومت وفاقی پالیسی سے مختلف سکیورٹی حکمت عملی اختیار نہیں کرسکتی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور سکیورٹی حکام خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بیرونی عناصر سے جوڑتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے خلاف بعض حملوں میں افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد موجود ہیں، جبکہ غیر ملکی عناصر کی جانب سے دہشت گردی کی مبینہ حمایت بھی ایک اہم سکیورٹی تشویش ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی حکام کے جائزے میں بھارت کو دہشت گردی کے حوالے سے ایک اہم بیرونی عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں وسیع تر علاقائی صورتحال اور دیگر ممالک کے ممکنہ کردار پر بھی بات چیت جاری ہے۔ تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے متعلقہ فریقین کے مؤقف کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

وفاقی مؤقف کے مطابق بیرونی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور قومی سطح پر حکمت عملی تشکیل دینے کی ذمہ داری مرکز کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سکیورٹی اور دفاعی اداروں سے مشاورت کے بعد پالیسی مرتب کرے گی اور صوبائی حکومتوں سے اس پر تعاون اور عمل درآمد کی توقع کی جائے گی۔

پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایک ذریعے کے مطابق، اگر ملک کو بیرونی جارحیت اور دہشت گردی جیسے مشترکہ خطرات کا سامنا ہو تو مختلف صوبوں کے لیے الگ الگ سکیورٹی پالیسیاں اختیار کرنا مشکل ہوگا۔ اسی بنیاد پر خیبر پختونخوا حکومت سے قومی پالیسی کے مطابق اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔

یہ معاملہ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکز کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے سیاسی اختلافات کو دہشت گردی کے خلاف ریاستی اقدامات میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رہنا چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور سکیورٹی حکام خیبر پختونخوا حکومت سے یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ قومی انسداد دہشت گردی پالیسی کی حمایت کرے گی۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال کو محض اسلام آباد اور پشاور کے درمیان سیاسی اختلاف کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ اسے قومی سلامتی کے تناظر میں حل کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ صوبائی سطح پر اقدامات کو قومی سکیورٹی پالیسی سے ہم آہنگ رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین