اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کی امریکا ایران ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دیا ہے۔ اسلام آباد کے دورے کے دوران گوتریس نے فریقین پر زور دیا کہ تنازع ختم کرکے سفارت کاری کی جانب واپس آیا جائے۔
منگل کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس میں گوتریس نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے عالمی امن اور سلامتی کے معاملات میں اسلام آباد کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی سراہا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات کیلئے ایک فریم ورک تشکیل دینے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کو اس اہم کردار پر فخر ہونا چاہیے۔
گوتریس نے تمام فریقین سے دشمنی ختم کرنے اور سفارتی رابطوں پر دوبارہ توجہ دینے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے عالمی قوانین کے مطابق بحری حقوق بحال کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔
اس سے قبل اسحاق ڈار نے گوتریس سے ملاقات کی، جس میں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔ دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں فلسطین، جموں و کشمیر، افغانستان، انسداد دہشت گردی اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سمیت مختلف معاملات زیر بحث آئے۔
اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری سمیت پاکستان کی کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری کو فروغ دینے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ گوتریس نے پاکستان کے سفارتی کردار اور اقوام متحدہ کیلئے خدمات کو سراہا۔
گوتریس منگل کی صبح پاکستان پہنچے اور ان کا دورہ 6 سے 8 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ شیڈول کے مطابق وہ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر ان کی 10 سالہ مدت 31 دسمبر کو ختم ہونے والی ہے۔