فرانس نے فرانس فونٹین بلو جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے دو واٹر بمبار طیارے اور 400 سے زائد فائر فائٹرز تعینات کر دیے ہیں۔ پیرس کے جنوب میں واقع تاریخی فونٹین بلو کے جنگلات میں لگنے والی آگ شدید گرمی اور تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی، جس کے نتیجے میں اہم شاہراہ بند اور ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔
حکام کے مطابق آگ پیرس سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب میں واقع فونٹین بلو کے جنگل میں بھڑکی، جہاں اب تک 800 ہیکٹر سے زائد رقبہ جل چکا ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے زمین پر موجود عملے کے ساتھ کینیڈیئر سی ایل-415 واٹر بمبار طیاروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
آگ اے سکس (A6) موٹروے کے قریب لگی، جو پیرس کو لیون اور جنوبی فرانس سے ملاتی ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت شاہراہ کے کچھ حصے بند کر دیے گئے جبکہ آس پاس لگنے والی چھوٹی آگ کے باعث تیز رفتار ٹرینوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی۔
فائر حکام نے مقامی آبادی کو آگاہ کیا کہ واٹر بمبار طیارے آگ بجھانے کے لیے دریائے سین سے پانی حاصل کریں گے۔ امدادی ٹیمیں شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باوجود آگ پر قابو پانے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔
#Incendies | 400 sapeurs-pompiers ont été à pied d’œuvre cette nuit pour lutter contre le feu dans la forêt de Fontainebleau (Seine-et-Marne) qui, depuis son déclenchement en bord d’autoroute hier après-midi, a déjà parcouru + de 800 hectares en milieu de nuit.
La lutte continue… pic.twitter.com/kwdnyS9IYw— Pompiers de France (@PompiersFR) July 13, 2026
فرانس فونٹین بلو جنگلاتی آگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی یورپ اس موسم گرما کی تیسری شدید ہیٹ ویو کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت اور جنگلاتی آگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں بھی بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ لگی، جس سے ہزاروں ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا۔ اسپین کے صوبہ المیریا میں ایک جنگلاتی آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی، جہاں 93 سالہ برطانوی خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔
ماہرین صحت کے مطابق یورپ میں شدید گرمی کے باعث اموات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بجلی کی فراہمی متاثر ہونے، اسکول بند ہونے اور درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہونے کے بعد حکام موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ہنگامی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دے رہے ہیں۔