فرانس ینبع تعیناتی

فرانس کا سعودی عرب کے ینبع کے تحفظ کیلئے فوج بھیجنے کا اعلان

فرانس سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع کے تحفظ کے لیے فوج، ریڈار اور دفاعی نظام بھیجے گا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق فرانس ینبع تعیناتی کا مقصد اہم توانائی مرکز کی حفاظت کرنا ہے۔

میکرون نے کہا کہ فرانسیسی فوجی وسائل کا استعمال صرف تنصیب کے تحفظ کے لیے کیا جائے گا اور فرانس کو وسیع تر علاقائی تنازع میں شامل کرنا مقصد نہیں ہے۔ ینبع سعودی عرب سے تیل کی برآمد کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ ان حملوں نے تیل کی ترسیل کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔

میکرون نے ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران فرانس میں توانائی کی صورتحال پر بھی بات کی۔ بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کے باعث حکومت کو داخلی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ صدر نے موسم سرما سے قبل ملک میں گیس اور تیل کی مناسب فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

فرانس ینبع تعیناتی میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ ریڈار اور دفاعی نظام بھی شامل ہوں گے، تاہم میکرون نے تعینات کیے جانے والے اہلکاروں کی تعداد یا دفاعی آلات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ مشن کا بنیادی مقصد ینبع کی اہم تنصیبات کا تحفظ ہے۔

میکرون نے روس سے متعلق سیکیورٹی خدشات پر بھی بات کی اور کہا کہ یورپی ممالک کو بڑھتی ہوئی مخالف سرگرمیوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق فرانس کو ڈرون اور سائبر حملوں جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر نے اس رپورٹ کی بھی تردید کی کہ امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے یورپی حکومتوں کو بحیرہ روم سے ممکنہ ڈرون حملوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ دوسری جانب روس، مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور توانائی کی سلامتی سے متعلق صورتحال فرانس کی خارجہ اور دفاعی پالیسی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین