اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر حکومت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی اور 20 ستمبر کو چاروں اطراف سے اسلام آباد کا رخ کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام نے پیٹرولیم لیوی کو بھتا ٹیکس قرار دیا ہے، لہٰذا حکومت کو ہر صورت پیٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے عوامی مسائل کے حل کے لیے مناسب تجاویز پیش کی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے شرح سود میں کمی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر شرح سود میں 3 فیصد کمی کردی جائے تو تقریباً 1700 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ شرح سود کم کیوں نہیں کی جارہی۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ملک کے 36 شہروں میں دھرنے جاری ہیں، جبکہ 20 ستمبر کو چاروں طرف سے اسلام آباد آنے کا پروگرام ہے۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مطالبات کے معاملے پر ٹال مٹول سے کام لیا گیا تو جماعت اسلامی مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ جماعت اسلامی کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تو جماعت اسلامی ضرور جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سیاسی قیدی سمجھتی ہے۔