ایم کیو ایم پاکستان نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے پر مزید سیاسی سرگرمی کا عندیہ دے دیا ہے۔ پارٹی چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کراچی سے اسلام آباد تک مارچ کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے ہونے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ایک اور تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے ریلی کو شہر کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا اور عوامی شراکت داری پر زور دیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ کراچی سے اسلام آباد جانے والا قافلہ ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے سندھ سمیت ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔
خالد مقبول صدیقی نے عوامی اور اشتراکی جمہوریت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ایم کیو ایم پاکستان طویل عرصے سے بااختیار بلدیاتی نظام، اختیارات کی منتقلی اور مقامی اداروں کو زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے عوام نے اختیارات کی منتقلی کے حق میں اپنی رائے دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب شراکت داری کا دور شروع ہوگیا ہے اور عوام کا طویل انتظار سڑکوں پر آیا ہے۔
فاروق ستار نے اندرون سندھ سے آنے والے شرکا کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سکھر، میرپور خاص اور نواب شاہ سمیت مختلف شہروں میں مقامی سیاسی قیادت کے حوالے سے پارٹی کے مؤقف کا اظہار کیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد مارچ کا اشارہ اس مطالبے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی ممکنہ کوشش ہے، تاہم مارچ کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔