آئی ایف سی عالمی بینک پاکستان تعاون کو نجی شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی ترجیحات سے متعلق ایک اہم اجلاس میں دوبارہ آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ آئی ایف سی کے ریجنل ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز اور پاکستان کے لیے عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ سے ملاقات کی۔
ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔ احد چیمہ نے پاکستان میں گزشتہ چار برس کے دوران انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے بڑھتے ہوئے کردار کو سراہا اور عالمی بینک گروپ کے نئے شراکتی فریم ورک کے تحت تعاون کو اہم قرار دیا۔
2026 سے 2035 تک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت عالمی بینک گروپ پاکستان کے لیے سالانہ 2 ارب ڈالر تک متحرک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تعاون کے اہم شعبوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے اور ہاؤسنگ فنانس شامل ہیں۔
آئی ایف سی عالمی بینک پاکستان تعاون میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ سائمن اینڈریوز نے پاکستان کے ایس ایم ای شعبے میں آئی ایف سی کی دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ احد چیمہ نے کہا کہ ایس ایم ایز معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو مضبوط بنانے، اسے نجکاری ڈویژن کے تحت لانے اور اس کے کردار کو وسعت دینے کے لیے نئی قانون سازی کی تیاری کا ذکر کیا۔
مجوزہ نظام کے تحت اتھارٹی وزارتوں کو منصوبے تیار کرنے اور فروغ دینے، مالی وسائل حاصل کرنے اور منصوبوں کی نگرانی میں مدد دے گی۔ آئی ایف سی اور عالمی بینک کے نمائندوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مضبوط بنانے کے حکومتی اقدام کو سراہا۔
ملاقات میں ہاؤسنگ فنانس بھی اہم موضوع رہا۔ احد چیمہ نے کہا کہ حکومت لوگوں کو اپنے گھر بنانے میں مدد دینے اور رہائشی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ہاؤسنگ فنانس کے دائرہ کار کو بڑھانے میں آئی ایف سی سے تعاون کی درخواست کی اور پاکستان کے لیے تکنیکی معاونت اور مالی تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔