ایران کی حوثیوں کو انٹیلی جنس فراہمی سے متعلق وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی معاونت نے سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادیوں کے خلاف حوثیوں کی حملے کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق امریکی اخبار نے اس حوالے سے انٹیلی جنس معلومات سے باخبر ذرائع کا حوالہ دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے سعودی عرب اور یمن کے حوثی مخالف اتحاد کی انٹیلی جنس معلومات سے واقف افراد کی بنیاد پر یہ رپورٹ شائع کی۔ ان ذرائع کے مطابق ایرانی معاونت نے حوثیوں کی فوجی کارروائیوں کو زیادہ مؤثر اور پیچیدہ بنانے میں مدد دی ہے۔ تاہم، یہ دعوے انٹیلی جنس معلومات سے واقف ذرائع کے بیانات پر مبنی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی مبینہ مدد سے حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی علاقائی پیش قدمی کی ہے۔ اس کے علاوہ گروپ نے سعودی عرب کے اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ بحیرہ احمر کا ساحلی علاقہ اہم تجارتی راستوں کے قریب ہونے کی وجہ سے عالمی جہاز رانی کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ایران کی حوثیوں کو انٹیلی جنس فراہمی کو سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ان مقامات کو نشانہ بنانے سے توانائی کے نظام، شہری فضائی سفر اور معاشی سرگرمیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان مبینہ کارروائیوں نے خطے میں سکیورٹی سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔
رپورٹ میں گزشتہ ہفتے ریاض میں ہونے والے ایک حملے کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر 13 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ بڑھتے ہوئے حملوں کے انسانی نقصانات اور سعودی حکام کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات سے اس مخصوص واقعے میں ایرانی انٹیلی جنس کے کردار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔
ایران نے یمن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ حوثی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور ایران ان کی کارروائیوں کو براہ راست کنٹرول نہیں کرتا۔ ایران نے حوثیوں کو مکمل طور پر آزاد کردار قرار دیا ہے، جو ایرانی معاونت سے متعلق تازہ الزامات کے برعکس مؤقف ہے۔
ایران، حوثیوں، سعودی عرب اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ رپورٹ سامنے آئی ہے۔ مزید حملے یمن اور مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ ان الزامات سے ایران پر سفارتی دباؤ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم ایرانی کردار اور مبینہ انٹیلی جنس معاونت کی نوعیت بدستور متنازع ہے۔