اسرائیل نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے جوہری ہتھیار یا بیلسٹک میزائل بنانے کی کوشش کی تو اسے دوبارہ نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار یا بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔
ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ ایران اگر امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ کر بھی لیتا ہے، تب بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی صورت میں اسرائیل کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران اب تک جوہری ہتھیار حاصل کرچکا ہوتا۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو دو سے چار سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔
یہ تازہ بیان ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کو اپنی اہم سکیورٹی ترجیحات میں شامل کرتا رہا ہے، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کیلئے قرار دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کیا تھا۔ حملوں کے نتیجے میں ایران کے اعلیٰ فوجی اور حکومتی عہدیداروں سمیت متعدد اہم شخصیات کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔