امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران میں اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے کیونکہ ایرانی پارلیمنٹ اجلاس حملے کے بعد پہلی بار کل منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس ملک کی موجودہ صورتحال میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق Islamic Consultative Assembly کا یہ اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوگا کیونکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال اب بھی حساس بنی ہوئی ہے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ اجلاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پہلی پارلیمانی نشست ہوگی جس میں ارکان معیشت اور ملکی حالات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ اجلاس حملے کے بعد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک کو معاشی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق پارلیمانی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ضروری ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ آخری عوامی اجلاس 16 فروری کو ہوا تھا، جس کے بعد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سرگرمیاں محدود تھیں۔ اب دوبارہ اجلاس کا انعقاد معمول کی طرف واپسی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ معاشی مسائل، پابندیوں کے اثرات اور مالی استحکام پر غور کریں گے۔ ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال پر بھی تفصیلی بحث متوقع ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ اجلاس حملے کے بعد کو حکومت کی اندرونی استحکام کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ اجلاسوں کا انحصار سیکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔