نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو نیویارک میں اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران خطے اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار علاقائی سکیورٹی سے متعلق گفتگو میں پرامن حل، تعاون اور علاقائی استحکام پر زور دیا گیا۔
27ویں غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے برادر ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر پرامن نتائج کے لیے کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ای سی او کے رکن ممالک کو امن، استحکام، یکجہتی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنی اجتماعی طاقت استعمال کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق خطہ ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلی، پانی اور غذائی تحفظ جیسے چیلنجز کے ساتھ رابطوں کے نئے مواقع بھی موجود ہیں۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 chaired the 27th Informal Meeting of the ECO Council of Ministers (COM) in New York, on the sidelines of the 81st Session of the UN General Assembly.
The meeting was attended by Foreign Ministers of… pic.twitter.com/GIpdYPYfal
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 26, 2026
اسحاق ڈار نے ای سی او میں مضبوط سیاسی عزم اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ای سی او سیکریٹریٹ اور اس سے منسلک اداروں کے ڈھانچے اور دائرہ کار کا جائزہ لینے کی تجویز دی تاکہ وہ بدلتی ہوئی سیاسی اور aمعاشی صورتحال کے مطابق مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
پاکستان 2026-27 کے لیے ای سی او کونسل آف منسٹرز کی صدارت کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان تجارت اور معاشی انضمام، علاقائی رابطوں، ٹرانزٹ، تجارتی سہولت اور موسمیاتی لچک کو ترجیح دے گا۔ انہوں نے خطے کی بڑی آبادی اور وسیع رقبے کے باوجود عالمی تجارت میں محدود حصے کی نشاندہی بھی کی۔
رابطوں کے حوالے سے اسحاق ڈار نے ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، کسٹمز طریقہ کار اور ٹرانزٹ نظام بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے کے لیے علاقائی گیٹ وے کے طور پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ای سی او فری ٹریڈ ایریا کی جانب پیش رفت پر بھی زور دیا۔
اسحاق ڈار علاقائی سکیورٹی سے متعلق گفتگو میں افغانستان کا معاملہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام علاقائی ترقی کے لیے اہم ہے اور افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پاکستان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔