اسرائیل غزہ منصوبہ

اسرائیل نے غزہ منصوبے پر امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا

اسرائیل غزہ منصوبہ ایک بار پھر سفارتی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے غزہ سے متعلق مجوزہ امریکی منصوبے پر اپنے تحفظات واشنگٹن کو پہنچا دیے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ عوام کے سامنے آنے والا منصوبہ ان کے سرکاری مؤقف اور سکیورٹی خدشات کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپل مین نے بتایا کہ اسرائیل نے مجوزہ فریم ورک پر اپنے تبصرے اور خدشات امریکی حکام کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی بنیادی ترجیح قومی سلامتی اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض میڈیا رپورٹس میں حماس کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ تنظیم نے مجوزہ منصوبے سے اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم حماس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے حماس کی مکمل، قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی غیر مسلحی ضروری ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق جنگ بندی کے باوجود حماس نے اپنی سرگرمیوں اور افرادی قوت کی بحالی کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ جب تک حماس کے غیر مسلح ہونے کی مکمل تصدیق نہیں ہو جاتی، اسرائیل غزہ میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے فوج واپس نہیں بلائے گا۔ حکام کے مطابق پائیدار امن کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتیں ناگزیر ہیں۔

دوسری جانب سفارتی رابطوں کے باوجود غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے، جس سے خطے کی نازک صورتحال اور انسانی بحران مزید نمایاں ہو گیا ہے۔

اسرائیل غزہ منصوبہ پر امریکا، اسرائیل اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مشاورت جاری ہے، تاہم جنگ بندی، سکیورٹی انتظامات اور غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین