برطانیہ کے شاہ چارلس سوم نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کا سرکاری دورے پر استقبال کیا۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق عمان کے کسی سلطان کا 44 سال بعد یہ پہلا سرکاری ریاستی دورہ ہے۔
استقبالیہ تقریب کے دوران شاہ چارلس نے اپنے خطاب میں عمان کے عوام کے کردار اور روایات کا ذکر کیا۔ ان کے خطاب میں مذہبی اور تاریخی حوالوں نے بھی توجہ حاصل کی، جس سے برطانیہ اور عمان کے درمیان ثقافتی روابط کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
Britain’s King Charles III welcomed Oman’s Sultan Haitham bin Tariq on the first state visit in 44 years, praising Omani peace making efforts and quoting, in Arabic, a sacred text attributed to Islam’s Prophet Muhammad SAW.
#KingCharles #Oman #UK #SultanHaitham #Diplomacy https://t.co/6ncSS3fu3G
— Pakistan Economic Network (@NetPakistan) October 22, 2026
شاہ چارلس نے صحیح مسلم کی حدیث عربی میں پڑھی
اپنے خطاب کے دوران شاہ چارلس نے صحیح مسلم سے منسوب ایک حدیث عربی زبان میں پڑھی اور اس کے مفہوم کے ذریعے عمان کے لوگوں کے اچھے اخلاق کو سراہا۔ بیان کردہ مفہوم کے مطابق عمان کے لوگوں کے پاس آنے والوں کو نہ گالی دی جاتی اور نہ ہی ان پر تشدد کیا جاتا۔
شاہ چارلس کی جانب سے اسلامی روایت کا حوالہ دینا اس تقریب کا ایک نمایاں پہلو تھا۔ اس موقع پر عمانی عوام کے حسن اخلاق اور مہمان نوازی کو اجاگر کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی احترام اور باہمی تعلقات کی علامت ہے۔
آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے عمان کی کوششیں
برطانوی بادشاہ نے مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ اور آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جس کی سلامتی عالمی تجارت اور تیل کی فراہمی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
عمان خطے میں سفارتی روابط اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ایسے اقدامات مشرق وسطیٰ میں استحکام اور مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت کے مواقع برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔