وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بدھ کو اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزرا اور اہم حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور صوبے میں جاری سیاسی و سکیورٹی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس کے شرکا کو امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ اور حکومت و سیاسی نمائندوں کے درمیان ہونے والے بیک ڈور رابطوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ہنگامی اقدامات سے متعلق آئینی شقوں پر بھی غور کیا گیا۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 ایسی صورتحال میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے جب سنگین اندرونی بدامنی صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا معاملہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث پہلے ہی زیر بحث ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی بھی کہہ چکے ہیں کہ صورتحال خراب ہونے کی صورت میں صدر اور وزیراعظم کی جانب سے ضروری سمجھے جانے پر گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی حکومت نے اپنے تحفظات کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ سے جوڑا ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق وفاقی وزرا کے الزامات مسترد کیے ہیں اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت امن کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان خیبرپختونخوا کی صورتحال پر ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں ممکنہ آئینی اقدامات پر مشاورت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پارٹی رہنما شوکت یوسفزئی نے اسے ملتوی کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔