امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو بھارت کا دورہ شروع کیا، ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور نئی دہلی جامع تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ مارکو روبیو کا دورہ بھارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی روسی تیل کی خریداری سے متعلق ممکنہ محصولات سے چھوٹ دینے کے چند روز بعد ہو رہا ہے۔ دورے کے دوران تجارت، توانائی کی درآمدات اور دونوں ممالک کے تعلقات اہم موضوعات رہنے کی توقع ہے۔
مارکو روبیو مغربی بھارت کے شہروں ممبئی اور جام نگر کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں طے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی بھی شامل ہیں۔ ریلائنس جام نگر میں تیل صاف کرنے کا ایک بڑا صنعتی کمپلیکس چلاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ شہر بھارت کی توانائی ضروریات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
دونوں ممالک کے حکام نے حالیہ دنوں میں اشارہ دیا ہے کہ جامع تجارتی معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اس پیش رفت سے امکان پیدا ہوا ہے کہ روبیو کے دورے کے دوران معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں معاہدے پر دستخط کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کی حتمی شرائط بتائی گئی ہیں۔
روسی تیل کی خریداری امریکا اور بھارت کے تعلقات میں ایک اہم معاملہ ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں ایسے ممکنہ محصولات سے چھوٹ دی جن کے تحت روسی تیل کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک ڈیوٹی عائد کی جا سکتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق روسی تیل درآمد کرنے والے ممالک میں بھارت چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
روبیو نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے تجارتی پالیسی پر غور کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی کوششوں کو مدنظر رکھا ہے۔ ان کے مطابق بھارت نے روسی خام تیل پر انحصار کسی حد تک کم کیا ہے، لیکن اب بھی بڑی مقدار میں تیل خرید رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کو امریکا کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے متبادل ذرائع حاصل کرنا ہر ملک کیلئے یکساں طور پر آسان نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کو روسی تیل سے متعلق محصولات کی شقوں میں چھوٹ دینے کے فیصلے پر دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں کے بعض قانون سازوں کی تنقید کا سامنا ہے۔ بعض ارکان نے یوکرین کے خلاف جنگ کے معاملے پر ماسکو پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی حمایت کی ہے۔ روبیو کے مطابق امریکی انتظامیہ آئندہ 60 روز کے دوران جائزہ لے گی اور اس کے بعد فیصلہ کرے گی کہ نئے محصولات عائد کیے جائیں یا نہیں۔
بھارت اپنی بڑھتی ہوئی معیشت کی ضروریات پوری کرنے کیلئے خام تیل کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کرتا ہے۔ اس لیے توانائی کا تحفظ اس کی خارجہ اور تجارتی پالیسی کا اہم پہلو ہے۔ روبیو کا یہ دورہ ازبکستان میں سیاسی اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد ہو رہا ہے، جبکہ امریکا اور بھارت تجارتی پیش رفت کے ساتھ روسی تیل اور عالمی تعلقات سے متعلق اختلافات کو بھی سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔