ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی جارحیت کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ان کا بیان امریکا کی جانب سے لراک جزیرے پر ہفتے کے آخر میں کیے گئے حملے کے بعد سامنے آیا۔
ایرانی صدر نے کرغزستان روانگی سے قبل یہ بیان دیا، جہاں وہ ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ لراک جزیرے پر مبینہ امریکی حملے کے بعد ان کا پہلا اہم ردعمل ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مسعود پزشکیان نے خبردار کیا کہ مزید حملے کی صورت میں ایران بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنی سرزمین کے خلاف کسی جارحیت کو نظر انداز نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ کسی بھی آئندہ حملے کی صورت میں جارحین کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
مسعود پزشکیان نے ساتھ ہی کہا کہ خطے میں عدم استحکام کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق مسلسل بدامنی خطے کے تمام ممالک کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
ایرانی صدر کے بیان میں ایک طرف ممکنہ جوابی کارروائی کا واضح انتباہ دیا گیا، جبکہ دوسری جانب وسیع جنگ سے گریز کا پیغام بھی سامنے آیا۔ تہران نے دفاع کے عزم کے ساتھ کشیدگی بڑھانے سے بچنے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی کے اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ عدم استحکام کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا اور اس کے اثرات سب کو متاثر کر سکتے ہیں۔