پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان اور وکٹ کیپر محمد رضوان ڈومیسٹک کرکٹ میں ایک اہم ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ 19 اکتوبر سے خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) کے خلاف چار روزہ میچ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی قیادت کریں گے۔ پریزیڈنٹ ٹرافی کا یہ مقابلہ راولپنڈی کے شعیب اختر کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
سوئی ناردرن گیس کے ڈائریکٹر کرکٹ اور ہیڈ کوچ محمد حفیظ نے محمد رضوان کی تقرری کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ اسامہ شیرون نیازی کی جانب سے انہیں اس حوالے سے باضابطہ ای میل موصول ہو چکی ہے۔
محمد رضوان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی ایسے وقت میں متوقع ہے جب وہ قومی ٹیم سے متعلق حالیہ پیش رفت کے باعث توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اگست 2026 میں لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، لندن میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی 194 رنز سے شکست کے بعد رضوان سمیت سات کھلاڑیوں کو واپس بلایا گیا تھا۔
پاکستان واپسی کے بعد محمد رضوان کو مبینہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں بھی طلب کیا گیا، جہاں ان کے حوالے سے انکوائری جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم، اس معاملے کی تازہ ترین صورت حال اور کارروائی کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق محمد رضوان پاکستان کی جانب سے 47 ٹیسٹ، 103 ون ڈے انٹرنیشنل اور 106 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کا یہ تجربہ انہیں ڈومیسٹک سطح پر بھی ایک اہم کھلاڑی بناتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ سوئی ناردرن گیس کی کپتانی کی ذمہ داری سنبھالنے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ محمد رضوان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ رضوان کی خواہش بتائی جاتی ہے کہ وہ مزید تنازعات سے دور رہتے ہوئے اپنی توجہ کرکٹ پر مرکوز رکھیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے بورڈ سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت بھی طلب کی تھی۔