میانمار بھارت تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے میانمار کے صدر من آنگ ہلائنگ ہفتے کے روز پانچ روزہ سرکاری دورے پر بھارت پہنچ گئے۔ صدر بننے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے جسے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت پہنچنے پر میانمار کے صدر کا سرکاری استقبال کیا گیا۔ اپنے دورے کے آغاز میں وہ بہار میں واقع بدھ مت کے مقدس مقام بودھ گیا کا دورہ کریں گے، جہاں عقیدے کے مطابق گوتم بدھ کو روشن خیالی حاصل ہوئی تھی۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے ثقافتی اور مذہبی روابط کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق میانمار بھارت تعلقات تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کئی شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں اور موجودہ دورہ اس تعاون کو مزید وسعت دینے کا موقع فراہم کرے گا۔
Strengthening civilisational links with our neighbour!
A warm welcome to President U Min Aung Hlaing of Myanmar on his arrival in Bodh Gaya. He was received by Hon’ble Governor Lt Gen Syed Ata Hasnain (Retd.) @GovernorBihar at the airport.
The visit reflects the strong… pic.twitter.com/jXFPfiF1mz
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) May 30, 2026
دورے کے دوران صدر من آنگ ہلائنگ نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، رابطہ کاری، علاقائی سلامتی اور ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
اقتصادی تعاون بھی اس دورے کا اہم حصہ ہے۔ میانمار کے صدر بھارتی کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ دونوں ممالک معاشی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
بھارتی حکام کے مطابق 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 1.95 ارب ڈالر رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی تعاون میں اضافہ خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق میانمار بھارت تعلقات خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں مزید اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتیں مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی تعاون کو نئی سمت دے سکتی ہیں۔