نیپال سیلاب

نیپال میں شدید بارشوں سے سیلاب، 21 افراد ہلاک

نیپال میں کئی روز سے جاری شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام کے مطابق 5 افراد تاحال لاپتا جبکہ 5 دیگر زخمی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں دارالحکومت کھٹمنڈو کا خطہ بھی شامل ہے۔

وزیراعظم بالیندر شاہ نے بتایا کہ زخمی افراد کا علاج جاری ہے جبکہ امدادی ادارے تلاش، ریسکیو اور عارضی پناہ گاہوں کی فراہمی کے کام میں مصروف ہیں۔ نیپال سیلاب کے باعث کئی علاقوں میں آمدورفت متاثر ہوئی اور سڑکوں سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ ملک کے بعض علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ دریاؤں کے کنارے اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے افراد کو غیر ضروری سفر سے گریز اور محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 24 سے 27 ستمبر کے دوران ہونے والی شدید بارشیں خلیج بنگال کے اوپر بننے والے کم دباؤ کے نظام سے منسلک تھیں۔ کم از کم 747 خاندان براہ راست متاثر ہوئے جبکہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث تقریباً 2 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

شدید موسمی صورتحال نے نیپال کی بجلی کی فراہمی کو بھی متاثر کیا۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق قومی بجلی کے ترسیلی نظام میں 1,013.2 میگاواٹ بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ ٹرانسمیشن ٹاورز گرنے کے بعد مجموعی طور پر 318 میگاواٹ صلاحیت کے پن بجلی منصوبوں کو بھی کام روکنا پڑا۔

تازہ نیپال سیلاب تقریباً ایک ماہ بعد آیا ہے جب 26 اگست کو بھوٹے کوشی اور ترشولی دریاؤں کے علاقوں میں تباہ کن اچانک سیلاب آیا تھا۔ اس سے راسووا، نواکوٹ، دھادنگ اور دیگر نشیبی علاقوں میں گھروں، سڑکوں، پلوں اور پن بجلی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔

اگست کے سیلاب میں بھی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور لاپتا افراد کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ نیپال کی وزارت خارجہ کے مطابق 29 اگست تک 626 لاشیں برآمد کی جاچکی تھیں جبکہ تقریباً 2,400 افراد لاپتا تھے۔ تازہ سیلاب نے ملک میں شدید موسمی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین