تباہ کن نیپال سیلاب کے بعد امدادی ٹیمیں ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے سیکڑوں افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیلاب سے 900 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
نیپالی امدادی کارکنوں کو چینی اور بھارتی ماہرین کی مدد بھی حاصل ہے۔ کیچڑ اور چٹانوں نے کئی سرنگوں کے راستے بند کردیے ہیں، جبکہ دشوار گزار علاقے نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ہائیڈرو پاور منصوبوں سے وابستہ 933 افراد لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیموں کی توجہ تقریباً نصف درجن بند سرنگوں پر ہے۔
بھاری مشینری کے ذریعے سرنگوں کے داخلی راستوں سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔ فوجی اہلکار اور امدادی کارکن ممکنہ طور پر زندہ افراد کی تلاش میں بھی مصروف ہیں۔ گزشتہ ہفتے برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کے بڑے ریلے نے نیپال اور تبت کی سرحدی آبادیوں کو متاثر کیا تھا۔
نیپالی حکام کے مطابق پیر تک 903 افراد ہلاک اور 4,247 لاپتا تھے۔ ریڈ کراس کے مطابق اس قدرتی آفت سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، جبکہ چین کے سرحدی علاقے گیئرونگ کاؤنٹی میں بھی ہلاکتیں اور گمشدگیاں رپورٹ ہوئیں۔
وزیراعظم بالیندر شاہ نے سیلاب کو غیر معمولی اور تباہ کن قدرتی آفت قرار دیا۔ ان کے مطابق نقصانات کا مکمل جائزہ لینا اب بھی مشکل ہے۔ تقریباً 21 ہزار سکیورٹی اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
خراب موسم، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے سے بننے والی غیر مستحکم جھیلوں نے امدادی کام مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ حکام مزید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے باعث کئی مقامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ نیپال سیلاب نے گلیشیئرز کے عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی سے جڑے خطرات پر بھی تشویش بڑھا دی ہے۔