کراچی: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کمپنی کے اوسط بنیادی بجلی ٹیرف میں 19 فیصد کمی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیپرا کے فیصلے کے باوجود کراچی کے تقریباً 35 لاکھ صارفین کو بجلی کے بلوں میں براہِ راست کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔ فیصلے کے بعد کے الیکٹرک کا اوسط بنیادی ٹیرف 32.37 روپے فی یونٹ برقرار رہے گا۔
موجودہ ٹیرف 2025 میں منظور کیے گئے 39.97 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 7.60 روپے فی یونٹ کم ہے۔ ٹیرف میں کمی کا تعلق کمپنی کی بجلی کی خریداری، ترسیل، تقسیم اور سپلائی سے متعلق اخراجات کی مجموعی ایڈجسٹمنٹ سے ہے۔
نئے ٹیرف کے حساب میں تقریباً 27.83 روپے فی یونٹ بجلی کی خریداری کے اخراجات شامل ہیں، جبکہ ترسیل کے اخراجات تقریباً 2.40 روپے فی یونٹ اور تقسیم کے اخراجات تقریباً 2.90 روپے فی یونٹ ہیں۔
ٹیرف کے حساب میں سپلائی کے اخراجات کی مد میں تقریباً 0.78 روپے فی یونٹ کی کریڈٹ رقم بھی شامل کی گئی ہے۔ ان تمام اجزا کو مدنظر رکھتے ہوئے کے الیکٹرک کا اوسط بنیادی ٹیرف 32.37 روپے فی یونٹ برقرار رکھا گیا ہے۔
کے الیکٹرک نے ٹیرف میں کمی کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اپیل دائر کی تھی، تاہم اپیلیٹ ٹربیونل نے کمپنی کی درخواست مسترد کردی۔ اس فیصلے کے بعد موجودہ ٹیرف میں 19 فیصد کمی برقرار رہے گی۔
یہ معاملہ 27 مئی 2025 کو شروع ہوا تھا جب نیپرا نے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں 6.15 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی۔ اس اضافے کے بعد مالی سال 2023-24 کے لیے کمپنی کا ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ ہوگیا تھا۔ تازہ فیصلے کے تحت اوسط بنیادی ٹیرف 32.37 روپے فی یونٹ برقرار رہے گا۔