تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکا-ایران معاہدہ نہ ہونے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ

تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں اس وقت دیکھا گیا جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ سفارتی تعطل اور رسد میں خدشات نے مارکیٹ کو اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.22 ڈالر یا 1.1 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 109.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل گزشتہ سیشن میں قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 1 ڈالر اضافے کے بعد 102.94 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وجہ سے بھی ہو رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں۔ یہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے۔

خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے امریکی موجودگی کے خلاف سخت مؤقف اپنایا جبکہ امریکا نے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کا اعلان کیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں لیکن کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ معاہدے کی عدم موجودگی نے عالمی منڈی میں بے یقینی برقرار رکھی ہے۔

اسی دوران اوپیک پلس نے تیل کی پیداوار میں یومیہ 188,000 بیرل اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق عملی سپلائی پر اس کا اثر محدود رہ سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین