حکومت نے بجلی چوری روکنے اور لوڈ مینجمنٹ بہتر بنانے کیلئے ٹرانسفارمر کی سطح پر بجلی بند کرنے کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت بجلی چوری والے ٹرانسفارمر کو بند کیا جاسکے گا اور اس مقصد کیلئے پورا فیڈر بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منصوبے کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے نظام سے بجلی چوری کے خلاف زیادہ مخصوص کارروائی ممکن ہوگی۔ اس طریقہ کار کے تحت پورے فیڈر کے صارفین کو بجلی کی بندش کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
اویس لغاری کے مطابق حکومت تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار ٹرانسفارمرز پر آن آف کرنے کا نظام نصب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس نظام کے ذریعے ہر ٹرانسفارمر کی بجلی کی فراہمی کو الگ سے کنٹرول کیا جاسکے گا۔ وزیر توانائی نے اسے پاکستان کیلئے نیا تصور قرار دیا جو دنیا کے مختلف حصوں میں استعمال ہورہا ہے۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ ٹرانسفارمر آن آف نظام کیلئے ریگولیٹری فریم ورک آئندہ سال اپریل یا مئی تک فراہم کردیا جائے گا۔ اس فریم ورک کے ذریعے نظام کے نفاذ اور آپریشن کیلئے ضروری قواعد طے کیے جائیں گے۔ حکومت کا مقصد بجلی کی تقسیم کو بہتر بنانا اور چوری سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا ہے۔
اویس لغاری نے نیٹ میٹرنگ نظام میں تبدیلیوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ میں تبدیلی کے بعد کچھ لوگوں نے بیٹریاں لگانا شروع کردی ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے چند لاکھ صارفین کا بوجھ باقی صارفین پر منتقل ہونے سے روکنے میں مدد ملی ہے۔
وزیر توانائی نے آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث پٹرولیم ڈویژن ایل این جی کے کارگوز حاصل نہیں کرپا رہا۔ ان کے مطابق حکومت مقامی گیس کو احتیاط اور ضرورت کے مطابق استعمال کر رہی ہے تاکہ توانائی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔
ٹرانسفارمر آن آف نظام حکومت کی جانب سے بجلی چوری اور تقسیم کے مسائل سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ موجودہ طریقہ کار میں پورا فیڈر بند کرنے کے بجائے نئے نظام کے ذریعے مخصوص ٹرانسفارمر کی بجلی بند کی جاسکے گی۔ حکومت ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری کے بعد اس نظام پر مزید پیش رفت کرے گی۔