پاکستان کا غزہ امن منصوبے پر مطالبہ سامنے آگیا ہے جہاں اسلام آباد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ غزہ جنگ بندی اور امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ پاکستان نے خبردار کیا کہ تاخیر سے دیرپا امن کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے یہ اہم موقع ہے۔ انہوں نے امن کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ غزہ جنگ بندی اور امن منصوبے نے انسانی مشکلات کم کرنے اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عملدرآمد میں تاخیر امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے پھیلاؤ، نئی بستیوں کے قیام اور آبادکاروں کے تشدد پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام آبادکاری سرگرمیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At the UN Security Council Open Debate on the Situation in the Middle East, including the Palestinian Question.
(28 July 2026)
********Mr. President,
This debate is an important… pic.twitter.com/boBO766hsP
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 28, 2026
پاکستان نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے کسی بھی الحاق، جبری بے دخلی یا آبادیاتی تبدیلی کی کوششوں کو مسترد کیا۔ سفیر نے فلسطینی عوام کے لیے عالمی تحفظ اور شہریوں کے خلاف خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے احتساب پر زور دیا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے اسے انتہائی نازک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود بڑی تعداد میں فلسطینی شہری غذائی بحران اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے متحد ہو کر اقدامات کرنے اور غزہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا۔