پشاور میں پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار رہنے کے باوجود پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے رابطے تیز کر دیے ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو چکا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی دو روزہ نشست کے باوجود اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر علی خان مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں اور تیسری نشست کے انعقاد کے لیے مختلف رابطے جاری ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی کے متعدد سینئر رہنما بھی لانگ مارچ سے قبل مذاکرات میں پیش رفت کے خواہاں ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں سے پہلے بات چیت کے ذریعے کسی قابل قبول سیاسی راستے کی تلاش کی جائے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر تحریری معاہدہ اور عملدرآمد کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران کے پی حکومت تحریری معاہدے اور بہتر سکیورٹی پلان پر آمادہ ہوگئی تھی۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبر پختونخوا حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ وزیر داخلہ نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سکیورٹی کے معاملے کو سیاسی اختلافات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔