پنجاب میں جاسوسی آلات پر پابندی

پنجاب حکومت کا جاسوسی آلات پر 30 روزہ پابندی کا اعلان

لاہور: حکومتِ پنجاب نے مبینہ طور پر خفیہ طور پر تصاویر، ویڈیوز اور آواز ریکارڈ کرنے والے جاسوسی آلات پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی نجی زندگی، حساس معلومات اور سکیورٹی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس پابندی کا اطلاق ایسے آلات پر ہوگا جو متعلقہ افراد کے علم میں لائے بغیر تصاویر، ویڈیوز یا آواز ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس اقدام کو خفیہ نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام سے جوڑا گیا ہے۔

پابندی کی زد میں خفیہ کیمروں سے لیس عینکیں، ریکارڈنگ کرنے والے پین، کی چین اور اس نوعیت کے دیگر چھوٹے آلات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان آلات کے استعمال کے ساتھ ساتھ دکانوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ان کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسے آلات شہریوں کی نجی معلومات افشا کرنے اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے حاصل کی جانے والی تصاویر، ویڈیوز اور گفتگو کا غلط استعمال بھی شہریوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

اس اقدام کا ایک اہم مقصد خواتین اور بچوں کی عزت، وقار اور نجی زندگی کا تحفظ بھی بتایا گیا ہے۔ خفیہ ریکارڈنگ کے ممکنہ استعمال کو محدود کرکے ہراسانی اور ذاتی معلومات کے غیر مجاز حصول جیسے خدشات کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، موبائل فونز اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے منظور شدہ ٹرمینل آلات کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم پابندی کی مکمل حدود اور اطلاق سے متعلق تفصیلات کے لیے سرکاری نوٹیفکیشن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین