روس نے صرف چھ ہفتوں میں ڈرون حملوں کا نیا اڈہ تقریباً مکمل کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے اور دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ اڈہ یوکرین کے خلاف روس کی جیٹ انجن والے ڈرونز سے حملے کرنے کی صلاحیت بڑھا سکتا ہے۔
یہ فوجی تنصیب روس کے جنوب مغربی علاقے روستوف میں میلیروا کے قریب واقع ہے۔ 31 اگست کو یہاں صرف ایک خالی میدان موجود تھا، لیکن 14 اکتوبر تک یہ تقریباً 0.9 مربع کلومیٹر پر پھیلے ایک بڑے فوجی کمپلیکس میں تبدیل ہو چکا تھا۔ یہ رقبہ تقریباً 126 فٹبال گراؤنڈز کے برابر ہے۔ پلینیٹ لیبز اور ایئربس کی تصاویر میں تعمیراتی کام کی تیز رفتار پیش رفت دکھائی گئی۔
نئے اڈے کی تعمیر ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس یوکرین کے خلاف جیٹ انجن والے حملہ آور ڈرونز کا استعمال بڑھا رہا ہے۔ یہ ڈرون مبینہ طور پر 600 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رفتار حاصل کر سکتے ہیں، جس سے انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوکرینی افواج ان تیز رفتار ڈرونز کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں اور دفاعی نظام بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انٹیلی جنس کمپنی ڈرون سیک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو مائیک مونک کے مطابق، یہ اڈہ روس کے نئے گیراں-4 اور گیراں-5 ڈرونز کو لانچ کرنے کے قابل دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے تنصیب کے مغربی حصے میں ڈرون لانچ کرنے کے لیے آٹھ پلیٹ فارمز کی نشاندہی کی۔ اس اڈے کے اضافے سے یوکرین پر حملوں کے لیے روس کے موجودہ کم از کم 11 مستقل ڈرون لانچ مقامات کے نیٹ ورک میں توسیع ہوگی۔
مائیک مونک نے کہا کہ یہ تنصیب تکمیل کے قریب ہے اور ممکنہ طور پر چند ہفتوں میں فعال ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، یہاں سے 24 گھنٹوں میں 100 یا اس سے زیادہ جیٹ انجن والے ڈرونز لانچ کرنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس کا انحصار دستیاب سامان اور فوجی مقاصد پر ہوگا۔ روس عام طور پر دن بھر میں نسبتاً چھوٹے گروپوں کی صورت میں ڈرون حملے کرتا ہے۔
اس اڈے کی تعمیر سے نیٹو کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ روس اور مغربی ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ یورپی حکومتوں نے ماسکو پر تخریبی کارروائیوں، ڈرونز کی فضائی حدود میں دراندازی اور سائبر حملوں میں اضافے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ مونک کے مطابق، ڈرونز کی صنعتی پیمانے پر پیداوار اور بعض نیٹو ممالک میں مؤثر انسدادِ ڈرون نظام کی کمی مغربی ممالک کے لیے تزویراتی خطرہ بن سکتی ہے۔
لندن میں قائم رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے روب جارڈن نے کہا کہ تصاویر میں دکھائی دینے والے کنکریٹ پلیٹ فارمز اور ممکنہ لانچ ریلز روسی گیراں ڈرونز کے نظام سے مطابقت رکھتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، یوکرینی فوج کے اعداد و شمار میں رواں موسم گرما کے دوران تین ماہ میں روس کے جیٹ انجن والے ڈرونز کے استعمال میں تقریباً چھ گنا اضافہ سامنے آیا۔ نیا اڈہ میلیروا ایئر بیس سے تقریباً 3.5 کلومیٹر دور ہے، جہاں فضائی دفاعی نظام کی موجودگی یوکرین کے لیے اسے نشانہ بنانا مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ روسی وزارت دفاع نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔