ایل نینو انتہائی شدت کے قریب

بحرالکاہل میں ایل نینو انتہائی شدت کے قریب، شدید موسمی حالات کا خدشہ

کراچی: بحرالکاہل میں موسمیاتی رجحان ایل نینو انتہائی شدت کے قریب پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں غیر معمولی موسمی حالات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم نے صورتحال پر نظر رکھنے اور ممکنہ اثرات کے لیے تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل کے مرکزی اور مشرقی حصوں میں سمندری درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں یہ غیر معمولی اضافہ ایل نینو کی شدت میں اضافے کی علامت ہے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست کے وسط کے دوران بعض علاقوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے 2.2 سے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ بعض مقامات پر زیرِ سمندر پانی کا درجہ حرارت معمول کی سطح سے تقریباً 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق ایل نینو کی شدت میں اضافے سے دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کا توازن متاثر ہوسکتا ہے۔ بعض علاقوں کو شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ دیگر خطوں میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم نے ممکنہ موسمی اثرات کے پیش نظر صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سطح پر درجہ حرارت، بارشوں اور موسمی نظام میں تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ایل نینو دراصل ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جس کے دوران بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ سمندری درجہ حرارت میں یہ تبدیلی فضائی دباؤ، ہواؤں اور بادلوں کی گردش کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں کے موسم پر اثر پڑتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین