شرجیل میمن مقدمے

شرجیل میمن شراب کی بوتلوں کے آٹھ سال پرانے مقدمے میں بری

کراچی: کراچی کی عدالت نے سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن اور پانچ دیگر ملزمان کو اسپتال کے کمرے سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کے آٹھ سال پرانے مقدمے میں بری کر دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔

مقدمے میں شرجیل میمن کے ملازمین اور جیل کے اہلکار بھی نامزد تھے۔ عدالت کے مطابق پولیس اور استغاثہ ملزمان کے مبینہ جرم میں ملوث ہونے کو ثابت کرنے کے لیے قابل اعتماد شواہد فراہم نہیں کر سکے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے تمام چھ ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔

دورانِ سماعت شرجیل میمن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فرانزک اور طبی رپورٹس کے مطابق متعلقہ بوتلوں میں شراب کے بجائے شہد اور زیتون کا تیل موجود تھا۔ دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ سائنسی شواہد پولیس کے ابتدائی دعوے کی تائید نہیں کرتے اور ملزمان کو سزا دینے کے لیے مقدمے میں کافی ثبوت موجود نہیں تھے۔

یہ مقدمہ یکم ستمبر 2018 کو پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے، جب پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی کے علاقے شیرین جناح کالونی میں واقع ایک اسپتال کا اچانک دورہ کیا تھا۔ اس وقت شرجیل میمن عدالتی تحویل میں اسپتال میں زیر علاج تھے اور ان کے کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، اس وقت کے چیف جسٹس نے دعویٰ کیا تھا کہ شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی تین بوتلیں ملی ہیں۔ اس کے بعد شرجیل میمن کو کراچی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ بوٹ بیسن پولیس نے ان اور ان کے تین ملازمین کے خلاف ممانعتِ منشیات سے متعلق آرڈیننس 1979 کی دفعہ 4 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

بعد ازاں مبینہ برآمدگی کے معاملے میں دو افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، ان میں سے ایک شخص نے مؤقف اختیار کیا کہ بوتلوں میں شراب نہیں بلکہ شہد اور کھانے کا تیل موجود تھا۔ یہی مؤقف بعد میں دفاع کے دلائل کا اہم حصہ بنا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین