وزیراعظم شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا ہے کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی۔ یہ بیان پشاور میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جس میں خیبر پختونخوا سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور دہشتگردی سے نمٹنے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت یہ اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے کی سیاسی صورتحال اور حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی اور صوبائی حکام نے سکیورٹی سے متعلق چیلنجز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، امیر مقام اور رانا ثناء اللہ شریک ہوئے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور کور کمانڈر پشاور نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق شرکاء نے صوبے سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والے مسلح افواج کے اہلکاروں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکاء نے قومی سلامتی کے لیے ان کی قربانیوں کو اہم قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوانوں اور افسران کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف کوششیں جاری رہیں گی اور صوبے میں سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا پولیس، سیف سٹیز منصوبوں اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تعاون فراہم کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بہتر بنانا اور سکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کے اہل خانہ کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان بھی متوقع ہے۔ تاہم، مجوزہ پیکج کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکام خیبر پختونخوا میں امن و امان بہتر بنانے اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔