آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات پر جاپان کی وزیراعظم سناے تاکائچی نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کی بندش سے ایشیا میں توانائی کے بحران میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کینبرا میں آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ایشیا پیسفک خطے پر “بہت بڑا اثر” ڈال رہی ہے۔ اس راستے سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی بات چیت میں توانائی سلامتی، اہم معدنیات اور دفاعی تعاون پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ دونوں ممالک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی سپلائی چینز کو متاثر کر رہی ہے۔
سناے تاکائچی نے کہا کہ جاپان اور آسٹریلیا کو فوری اور قریبی تعاون کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا تاکہ توانائی کی سپلائی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم Anthony Albanese نے جاپان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی بحران کے پیش نظر مضبوط شراکت داری ضروری ہے۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے اقتصادی سلامتی، دفاعی تعاون اور سپلائی چینز کو بہتر بنانے کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات خاص طور پر ایشیائی ممالک پر زیادہ پڑ رہے ہیں جو مشرق وسطیٰ سے تیل درآمد کرتے ہیں۔