متحدہ عرب امارات اوپیک اخراج کو ملک کی حکومت نے ایک خودمختار اور حکمتِ عملی پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہیل المزروعی نے کہا کہ اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ ملک کی تیل پیداوار پالیسی اور مستقبل کی توانائی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
سہیل المزروعی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس فیصلے کو سیاسی اقدام یا شراکت دار ممالک کے ساتھ اختلافات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات اپنی معاشی ترجیحات اور توانائی منصوبہ بندی کے مطابق فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اوپیک اخراج یکم مئی سے نافذ العمل ہو چکا ہے جبکہ اس کا اعلان اپریل کے آخری ہفتے میں کیا گیا تھا۔ عالمی توانائی منڈیوں میں اس خبر نے خاصی توجہ حاصل کی کیونکہ متحدہ عرب امارات اوپیک کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا تھا۔
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے عالمی تیل رسد پر اوپیک کا اثر کمزور پڑ سکتا ہے۔ کئی تجزیہ کار اس فیصلے کو خلیجی ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات سے بھی جوڑ رہے ہیں، تاہم سہیل المزروعی نے ان تمام خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کے تعلقات سعودی عرب سمیت دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مضبوط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران سے متعلق جاری علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ بڑھتے ہوئے جغرافیائی تنازعات نے تیل کی قیمتوں اور رسد کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
اوپیک اور اوپیک پلس کئی برسوں سے عالمی تیل پیداوار کو متوازن رکھنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر عمل کر رہے تھے۔ اب متحدہ عرب امارات اوپیک اخراج کو عالمی توانائی شعبے میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین اس کے مستقبل کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔