نیا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ طویل عرصے سے تعینات یو ایس ایس ابراہم لنکن کے حالات پر تشویش سامنے آئی ہے۔ یہ پیش رفت ایران سے متعلق امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران ہوئی ہے۔
امریکی بحریہ کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن گزشتہ ہفتے ویتنام کے شہر ڈا نانگ سے روانہ ہوا تھا۔ اس کے بعد اسے آبنائے سنگاپور کے قریب دیکھا گیا۔ ایک امریکی بحری عہدیدار کے مطابق جہاز آبنائے ملاکا میں داخل ہو چکا ہے اور بحر ہند کی طرف بڑھ رہا ہے۔
نیا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو ممکنہ طور پر ریلیف فراہم کرے گا۔ ابراہم لنکن 260 سے زائد دن مسلسل سمندر میں رہ چکا ہے۔ یہ جہاز نومبر میں سان ڈیاگو سے روانہ ہوا اور جنوری میں مشرق وسطیٰ پہنچا تھا۔
طویل تعیناتی کے باعث امریکی قانون سازوں نے جہاز پر موجود اہلکاروں کی فلاح، رسد اور مسلسل فوجی دباؤ کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔ امریکی بحریہ نے تسلیم کیا کہ خطے میں جنگی کارروائیوں سے رسدی مراکز متاثر ہوئے، جس کے باعث خوراک، صفائی کی اشیا اور ڈاک کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن پر اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ بحریہ کا کہنا ہے کہ جہاز پر خودکشی کے خیالات یا کوششوں میں اضافے کا مشاہدہ نہیں ہوا، تاہم مخصوص اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔ اگست میں ایک اہلکار سمندر میں گر گیا تھا جسے فوری طور پر نکال کر طبی امداد دی گئی اور مزید علاج کے لیے جہاز سے منتقل کیا گیا۔
کئی ڈیموکریٹ قانون سازوں نے یو ایس ایس لنکن کے حالات کی مزید نگرانی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے بحری قیادت سے وضاحت طلب کی، جبکہ سینیٹر روبن گلیگو نے جہاز کا دورہ کرنے کے لیے دو جماعتی وفد کی خواہش ظاہر کی۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے تاہم جہاز کے حالات سے متعلق بعض رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے۔
نئے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی مشرق وسطیٰ روانگی سے یو ایس ایس لنکن کے عملے پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے، تاہم خطے میں امریکی بحری موجودگی کے مستقبل پر سوالات برقرار ہیں۔ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہے اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔