ایران کے خلاف امریکی فوجی آپشنز

امریکا کی ایران پر بڑے حملوں کی تیاری، پینٹاگون کو ہدایات

ایران کے خلاف امریکی فوجی آپشنز پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر پینٹاگون کو ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان تیاریوں میں مختلف ممکنہ اہداف شامل ہیں، جن کا جائزہ امریکی حکام لے سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، ممکنہ حملوں میں ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے آپشنز شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے۔

تاہم، ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔ اس بیان کے مطابق، پینٹاگون کی تیاریوں کے باوجود انتخابات سے قبل نئی فوجی کارروائی شروع نہ کرنے کی پوزیشن سامنے آئی ہے۔

ایران کے خلاف امریکی فوجی آپشنز میں میزائل اور ڈرون نظام اہم ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی زیر غور ہے، جو کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں نشانہ بن سکتا ہے۔

ان اطلاعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج مختلف ممکنہ صورت حال کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فوجی آپشنز تیار کرنے سے حکام کو ممکنہ اہداف، کارروائی کے طریقوں اور متعلقہ حکمت عملی کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

تاہم، دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایران پر نئے حملوں کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے یا کسی مخصوص کارروائی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ فوجی منصوبے تیار کرنے اور عملی حملے کی اجازت دینے میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات اس معاملے میں ایک اہم تاریخ ہیں۔ ٹرمپ کے بیان کے مطابق، انتخابات سے پہلے ایران پر حملے دوبارہ شروع نہیں ہوں گے، جبکہ فوجی منصوبہ بندی جاری ہے۔ آئندہ صورت حال کا انحصار امریکی انتظامیہ کے فیصلوں اور ایران کے حوالے سے اس کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں پر ہوگا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین