برطانیہ کے علاقے ویسٹ یارکشائر میں منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں 12 افراد کو مجموعی طور پر 100 سال سے زائد قید کی سزائیں سنا دی گئیں۔ سزا پانے والوں میں 11 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں، جن کا تعلق بریڈفورڈ میں سرگرم ایک منظم جرائم پیشہ گروہ سے بتایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مذکورہ گروہ منشیات کی غیرقانونی سپلائی اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھا۔ تحقیقات کے دوران نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا دائرہ ویسٹ یارکشائر سے آگے یارکشائر، ہمبر اور دیگر علاقوں تک پھیلا ہوا پایا گیا، جس سے اس گروہ کی سرگرمیوں کی وسعت سامنے آئی۔
حکام کے مطابق گروہ کلاس اے منشیات کی سپلائی میں ملوث تھا۔ برطانوی قانون کے تحت کلاس اے میں انتہائی سخت ضابطوں کے تحت آنے والی منشیات شامل ہیں۔ پولیس کی تحقیقات میں 135 کلوگرام سے زائد منشیات کی فراہمی کا انکشاف ہوا، جو اس غیرقانونی کاروبار کے بڑے پیمانے کی نشاندہی کرتا ہے۔
تحقیقات میں منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والی رقم کو غیرقانونی طریقوں سے مالی نظام میں شامل کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ پولیس کے مطابق منی لانڈرنگ اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا اہم حصہ تھی، جس کے ذریعے جرائم سے حاصل ہونے والی آمدن کو چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی۔
پولیس نے بتایا کہ تمام 12 ملزمان کو بریڈفورڈ کراؤن کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں جرائم کی نوعیت اور مقدمے میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ تمام سزاؤں کا مجموعی دورانیہ 100 سال سے تجاوز کر گیا۔
یہ کارروائی برطانیہ میں منظم جرائم، منشیات کی غیرقانونی ترسیل اور جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات میں منشیات کی سپلائی کے ساتھ مالی لین دین کا سراغ لگانا بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔