شی جن پنگ مصنوعی ذہانت کی محفوظ اور قابلِ کنٹرول ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) ہمیشہ انسان کے کنٹرول میں رہنی چاہیے۔ چین کے صدر نے شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ اے آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی تعاون کے ذریعے AI کی ذمہ دارانہ ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں شی جن پنگ نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کا اعلان کیا، جس میں 29 ممالک شامل ہوں گے اور اس کا صدر دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس ادارے کا مقصد AI کے شعبے میں عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینا ہے۔
چینی صدر نے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار جدت کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں بے شمار مواقع کے ساتھ ساتھ سکیورٹی، اخلاقیات اور گورننس جیسے نئے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے AI کو انسانیت کی اجتماعی دانش کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔
شی جن پنگ نے سوال اٹھایا کہ انسان اور ذہین مشینیں مستقبل میں کس طرح ساتھ رہیں گے، الگورتھمز کے ذریعے فیصلوں میں تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے گا، اور نئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کا مؤثر حل کیسے نکالا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ تمام سوالات عالمی برادری کی مشترکہ توجہ چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محفوظ AI کے لیے مضبوط قوانین، ضوابط، ٹیکنالوجی وارننگ سسٹمز اور ہنگامی ردعمل کے مؤثر نظام ضروری ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے قومی سلامتی کے تصور کو غیر ضروری طور پر وسیع کرنے سے گریز کرنے پر بھی زور دیا تاکہ بین الاقوامی تعاون متاثر نہ ہو۔
چین نے آئندہ پانچ برسوں میں ترقی پذیر ممالک کے لیے 5 ہزار AI تربیتی مواقع فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ شی جن پنگ نے کہا کہ کھلے تعاون، شمولیت اور مشترکہ ترقی کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے فوائد پوری دنیا تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر چینی صدر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ہمیشہ انسان کے کنٹرول میں رہنی چاہیے اور اس کی ترقی اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کے تعاون سے آگے بڑھنی چاہیے۔ ان کے مطابق AI کی ترقی کسی ایک ملک کی انفرادی کوشش نہیں بلکہ عالمی اشتراک کا نتیجہ ہونی چاہیے۔