وسطی افریقی ملک کانگو میں ایبولا وائرس کے کیسز میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جہاں مہلک وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 131 تک پہنچ گئی ہے۔ صحت حکام کے مطابق وائرس تیزی سے مختلف علاقوں میں پھیل رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں مزید 26 افراد ایبولا وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں صحت مراکز محدود ہونے کے باعث وائرس پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ادھر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر عالمی ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے فوری عالمی تعاون اور طبی امداد کی ضرورت ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ایبولا ایک خطرناک اور متعدی وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسروں میں منتقل ہوسکتا ہے۔ اس وائرس کی علامات میں تیز بخار، کمزوری، جسم درد اور اندرونی خون بہنا شامل ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب اردن نے احتیاطی تدابیر کے طور پر کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے مسافروں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک اور خطے کو ممکنہ وبائی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔