ایران امریکا کشیدگی

ایران کا کویت، بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

ایران امریکا کشیدگی میں مزید شدت اس وقت آئی جب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوج سے منسلک تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد فوجی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

آئی آر جی سی کے مطابق کویت کی الاحمدی بندرگاہ پر امریکی بحری بیڑے کے ایندھن سپورٹ مرکز اور بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے بحرین میں امریکی انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر اور کویت میں امریکی مواصلاتی مرکز کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی حکام نے یہ بھی کہا کہ امریکی حملوں میں صوبہ ہرمزگان میں سات سے آٹھ شہری ہلاک ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں پلوں، رہائشی علاقوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خواتین اور بچوں سمیت شہری متاثر ہوئے۔

دوسری جانب کویتی حکام نے تصدیق کی کہ ملک کے تیل کے شعبے کی ایک اہم تنصیب حملے کی زد میں آئی، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے اور مالی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔ ایران نے اردن کے الازرق ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے میں ہرمزگان کے ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا، جس سے تقریباً 20 دیہات کے 10 ہزار افراد پینے کے پانی سے محروم ہو گئے۔ مقامی حکام نے صورتحال کو انسانی بحران قرار دیتے ہوئے فوری امداد کی ضرورت پر زور دیا۔

ایران امریکا کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بھی تناؤ بڑھ گیا ہے، جہاں عالمی خام تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی تجارت ہوتی ہے۔ امریکا نے سمندری نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا جبکہ ایران نے بعض بحری جہازوں کو روکنے کا دعویٰ کیا۔ امریکا نے ایرانی میڈیا کی ان رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں دو آئل ٹینکرز کی تباہی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی رسد، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ دونوں جانب سے کیے گئے متعدد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین