پیٹرولیم لیوی

پیٹرولیم لیوی کی ریکارڈ وصولیوں سے پاکستان کا بجٹ خسارہ ہدف کے اندر رہا

مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران پاکستان بجٹ خسارہ حکومتی ہدف کے قریب برقرار رہا۔ اس کامیابی میں پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے حاصل ہونے والی غیر ٹیکس آمدن نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ صوبوں کے بجٹ سرپلس نے بھی مجموعی مالیاتی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی۔

سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے مئی تک وفاقی بجٹ خسارہ تقریباً 3.34 کھرب روپے رہا، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد کے برابر ہے۔ صوبوں کی جانب سے 1.31 کھرب روپے کے سرپلس کے بعد مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر 2.03 کھرب روپے یا جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک محدود رہا۔

وفاقی حکومت نے پورے مالی سال کے لیے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا، جو تقریباً 3.77 کھرب روپے بنتا ہے۔ یہ ہدف ابتدائی تخمینے سے کم تھا، جو 3.9 فیصد مقرر کیا گیا تھا، اور اس سے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی حکومتی کوششوں کا اظہار ہوتا ہے۔

غیر ٹیکس آمدن حکومتی مالیات کا اہم سہارا ثابت ہوئی۔ پہلے گیارہ ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 4.82 کھرب روپے حاصل ہوئے، جبکہ پورے سال کے لیے ان ذرائع سے 5.14 کھرب روپے آمدن کا ہدف رکھا گیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاق کو 2.42 کھرب روپے سے زائد منافع منتقل کیا۔ اسی عرصے میں پیٹرولیم لیوی سے تقریباً 1.43 کھرب روپے جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے لگ بھگ 46 ارب روپے وصول کیے گئے، جس سے غیر ٹیکس محصولات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 11.22 کھرب روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کیے۔ تاہم قرضوں پر سود کی ادائیگی 6.16 کھرب روپے سے تجاوز کر گئی، جو اب بھی قومی مالیات پر ایک بڑا بوجھ ہے۔

وزارت خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے مکمل اور حتمی مالیاتی اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے۔ تاہم ابتدائی سرکاری معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ٹیکس آمدن، پیٹرولیم لیوی اور صوبائی سرپلس نے پاکستان بجٹ خسارہ حکومتی ہدف کے اندر رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین