ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایران سے جاری تنازع نے یو اے ای اسرائیل تعلقات کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی، تجارت اور سفارتی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے خطے کی نئی سیاسی صف بندی واضح ہو رہی ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ ہفتے دو اسرائیلی وفود متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔ ان میں سے ایک وفد ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق ہوگا جو بھارت، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو ملانے والے مجوزہ تجارتی راہداری منصوبے پر بات چیت کرے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق موجودہ حالات نے دونوں ممالک کو مشترکہ مفادات کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے مزید قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای اسرائیل تعلقات اب صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں رہے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور کاروباری مواقع کے میدان میں بھی وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی عہدیدار نے بعض میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے خطے میں متحدہ عرب امارات کے مؤقف کو سراہتے ہوئے اسے مضبوط اور مؤثر قرار دیا۔ ان کے مطابق امارات نے علاقائی سلامتی کے معاملات میں واضح اور فعال پالیسی اختیار کی ہے۔
جنگ کے باعث متحدہ عرب امارات کو اقتصادی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، خصوصاً سیاحت اور توانائی کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود اماراتی قیادت خطے میں دیرپا استحکام کے لیے جامع سفارتی حل کی حمایت کر رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت 2020 میں ہونے والے ابراہام معاہدوں کے بعد سے دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی اور اقتصادی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔