اسرائیل اسلحہ برآمدات

اسرائیل کی اسلحہ برآمدات 2025 میں ریکارڈ 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

اسرائیل اسلحہ برآمدات نے 2025 میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق دفاعی برآمدات 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے جب اسرائیل نے دفاعی برآمدات میں نئی بلند ترین سطح حاصل کی ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں برآمدات کا حجم دوگنا سے زیادہ جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً چار گنا بڑھ چکا ہے۔ اسرائیل دنیا کے نمایاں اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور متعدد خطوں کو جدید دفاعی نظام فراہم کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظام سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعات رہیں، جو مجموعی دفاعی معاہدوں کا 29 فیصد حصہ تھیں۔ اس کے علاوہ نگرانی اور آپٹرانکس سسٹمز کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

علاقائی سطح پر یورپی ممالک اسرائیلی دفاعی مصنوعات کے سب سے بڑے خریدار رہے اور مجموعی برآمدات کا 36 فیصد حصہ ان کے نام رہا۔ ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک نے 32 فیصد جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک نے 15 فیصد خریداری کی۔

اسرائیلی وزیر دفاع Israel Katz نے کہا کہ اسرائیل اسلحہ برآمدات میں اضافہ ملک کی دفاعی صنعت کی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید دفاعی نظاموں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ کا ثبوت ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کئی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے جدید فضائی دفاعی اور میزائل سسٹمز کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

رواں سال اسرائیل نے Arrow میزائل انٹرسیپٹرز کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر دفاعی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی طلب مستقبل میں بھی اسرائیل اسلحہ برآمدات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین