پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق یہ بلوچستان انسداد دہشتگردی آپریشنز حالیہ سکیورٹی خدشات اور کوئٹہ ٹرین حملے کے بعد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق کارروائیاں مستونگ، نوشکی، ژہری، خضدار اور کیچ اضلاع میں کی گئیں۔ سکیورٹی اداروں نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور مشتبہ دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
بیان کے مطابق آپریشنز کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کارروائیوں میں 17 دہشتگرد مارے گئے جبکہ فورسز نے متعدد اہم ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا۔
یہ بلوچستان انسداد دہشتگردی آپریشنز گزشتہ ماہ کوئٹہ میں ٹرین پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد شروع کیے گئے، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم بھی برآمد کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مواد ممکنہ دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔
سکیورٹی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق دہشتگردوں کے باقی ماندہ نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان انسداد دہشتگردی آپریشنز قومی حکمت عملی "عزمِ استحکام” کے تحت جاری رہیں گے۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔