وفاقی بجٹ 2026-27

وفاقی بجٹ 2026-27: کراچی واٹر سپلائی منصوبے سمیت بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے پیش کیے گئے وفاقی بجٹ 2026-27 میں ملک بھر کے اہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق شہری ترقی، ہاؤسنگ، پانی، توانائی، شاہراہوں اور ریلوے کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ ملکی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

بجٹ میں کراچی کے اہم بلک واٹر سپلائی منصوبے K-IV کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کو پانی کی فراہمی میں بہتری لانا اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے سے کراچی میں پانی کے بحران میں نمایاں کمی آئے گی۔

دستاویزات کے مطابق دیرپا شہری ترقی اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے مجموعی طور پر 54 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس فنڈنگ کے ذریعے وفاقی اور صوبائی سطح پر تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار کم لاگت رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جبکہ ملک کے 10 بڑے شہروں کے لیے جدید ڈیجیٹل ماسٹر پلانز بھی تیار کیے جائیں گے۔

آئندہ مالی سال میں آبی وسائل کے بڑے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے جبکہ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ توانائی کے شعبے کی مجموعی ترقی کے لیے 116 ارب 20 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے بجٹ میں 6 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر بنائی جا سکے گی۔

ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے شعبے میں بھی بڑے منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ کراچی سے چمن تک این-25 شاہراہ، جسے پاکستان ایکسپریس وے کا نام دیا گیا ہے، کو دو رویہ بنانے کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ سکھر-حیدرآباد موٹروے منصوبے پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ریلوے کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کے کراچی تا روہڑی سیکشن پر آئندہ مالی سال کے دوران کام شروع کیا جائے گا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ ان منصوبوں سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں میں بہتری آئے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین